12 جولائی، 2026، 7:24 PM

خلیج فارس میں کشیدگی کی رات، آبنائے ہرمز کی بندش اور اردن کے پرنس حسن اڈے پر میزائل حملے

خلیج فارس میں کشیدگی کی رات، آبنائے ہرمز کی بندش اور اردن کے پرنس حسن اڈے پر میزائل حملے

ایران نے آبنائے ہرمز کی عارضی بندش کا اعلان کرتے ہوئے اردن اور قطر میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے جبکہ امریکی فضائی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتوار کی علی الصبح مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان شدید فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں دو مبینہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکنے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو اگلے اعلان تک بند کرنے کا اعلان کیا۔

امریکہ نے اس کے جواب میں جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن کے دوران مختلف مقامات پر فضائی دفاعی نظام متحرک رہا۔ اس کے بعد ایرانی فضائیہ نے اردن اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کا ایک نیا دور شروع ہوگیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دو ایسے جہازوں کو روک لیا گیا جو مقررہ بحری راستوں سے ہٹ کر گزر رہے تھے اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہیں کر رہے تھے۔ غیر قانونی مداخلت کے باعث آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی جہاز کو آمد و رفت کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام سے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر نقل و حرکت محدود ہوگئی۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوبی ایران میں فضائی حملوں کا اعلان کیا۔ خوزستان کے آبادان، ماہشہر اور ہندیجان، بوشہر کے بوشہر، کنگان، دیر اور عسلویہ، ہرمزگان کے بندرعباس، سیریک، قشم اور جاسک جبکہ سیستان و بلوچستان کے کنارک اور چاہ بہار میں دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

امریکی جارحیت کے بعد ایران کی فضائیہ نے جوابی کارروائی میں پہلے اردن کے پرنس حسن فضائی اڈے کو نشانہ بنایا اور وہاں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز اور ایم کیو 9 ڈرونز کے ہینگر تباہ کر دیے۔ اس کے بعد قطر میں واقع العدید فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن سے جنگی طیاروں کی مرمت اور کمانڈ سے متعلق تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

سپاہ پاسداران نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو اس کا مزید سخت جواب دیا جائے گا۔ حملوں کے بعد امارات، کویت، قطر، بحرین اور اردن میں موجود امریکی اڈوں پر ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا جبکہ مختلف مقامات پر فضائی دفاعی نظام بھی متحرک ہوگئے۔

ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش اور امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے ممالک میں واقع اڈوں کو نشانہ بنانے کو اپنی خودمختاری اور دفاع کا حصہ قرار دیا، جبکہ اس کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ پیش رفت تنازع کے دائرہ کار کو مزید تبدیل کر سکتی ہے۔

News ID 1940259

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha